Saturday, August 22, 2009

چل انشاء اپنے گاؤں میں


چل انشاء اپنے گاؤں میں

یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت
پر اصلی کم، بہرُوپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا
جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں

کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟
یہاں ہر اِک بات نرالی ہے
اِس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مُفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں

جہاں سچے رشتے یاریوں کے
جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے
جہاں جھرنے کومل سُکھ والے
جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں

ابنِ انشاء

Saturday, August 15, 2009

یہ باتیں جُھوٹی باتیں ہیں




یہ باتیں جُھوٹی باتیں ہیں

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم اِنشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں ؟

ہیں لاکھوں روگ زمانے میں، کیوں عشق ہے رُسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی، انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بے کل بے کل رہتا ہے، ہو پِیت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک، یوں کون پھرے گا آوارہ؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں ؟

یہ بات عجیب سناتے ہو، وہ دُنیا سے بے آس ہوئے
اک نام سُنا اور غش کھایا، اک ذکر پہ آپ اُداس ہوئے
وہ علم میں افلاطون سُنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
وہ تیس برس کے ہوتے ہیں، وہ بی اے، ایم اے پاس ہوئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم اِنشا جی کا نام نہ لو، کیا اِنشا جی سودائی ہیں ؟

گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں، آباد نہیں
جو جان لیے بنِ ٹل نہ سکے، یہ ایسی افتاد نہیں
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں، فرہاد نہیں
کیا ہجر کا دارُو مشکل ہے ؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں ، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں

وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو، ہم جان گئے
وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے، پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اُس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اُس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں؟

جو ہم سے کہو، ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟
اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے، گو اب کچھ اور زمانا ہے
یا چھوڑیں یا تکمیل کریں، یہ عشق ہے یا افسانا ہے؟
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے؟
یہ باتیں کیسی باتیں ہیں، جو لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں؟

(ابنِ انشا)


Thursday, July 23, 2009

ہمارا تمھارا خدا بادشاہ





کسي ملک ميں ايک بادشاہ تھا، بڑا دانش مند، مہربان اور انصاف پسند، اسکے زمانے ميں ملک نے بہت ترقي کي اور رعايا اس کو بہت پسند کرتي تھي، اس بات کي شہادت نہ صرف اس زمانے کے محکمہ اطلاعات کے کتابچوں اور پريس نوٹو ں سے ملتي ہے بلکہ بادشاہ کي خود نشت سوانح عمري سے بھي۔
شاہ جمجاہ کے زمانے ميں ہر طرف آزادي کا دور دورہ تھا، لوگ آزاد تھے، اور اخبار آزاد تھے، جو چاہيں کہيں جو چاہيں لکھيں، بشرطيہ کو بادشاہ کي تعريف ميں ہو، خلاف نہ ہو۔
اس بادشاہ کے زمانہ ترقي اور فتوحات کيلئے مشہور ہے، ہر طرف خوش حالي ہي خوش حالي نظر آتي تھي، کہيں تل دھرنے کو جگہ باقي نہ تھي، جو لوگ لکھ پتي تھے، ديکھتے ديکھتے کروڑ پتي ہوگئے،حسن انتظام ايسا تھا، کہ امير لوگ سونا اچھالتے اچھالتے ملک کے اس سرے سے اس سرے تک بلکہ بعض اوقات بيرون ملک بھي چلے جاتے تھے، کسي کي مجال نہ تھي کہ پوچھے اتنا سونا کہاں سے آيا اور کہاں لئے جارہے ہو۔
روحانيت سے شغف تھا، کئي دوريش اسے ہوائي اڈے پر لينے چھوڑنے جاتے يا اس کي کامراني کيلئے چلے کاٹتے تھے، طبعيت ميں عفو اور درگزر کا مادہ از حد تھا، اگر کوئي شکايات کرتا تھا، کہ فلاں شخص نے ميري فلاں جائداد ہتھيالي ہے، يا فلاں کارخانے پر قبضہ کرليا ہے، رو مجرم خواہ بادشاہ کا کتنا ہي قريبي عزيز کيوں نہ ہو، وہ کمال سير چشمي سے اسے معاف کرديتے تھے، بلکہ شکايت کرنے والوں پر خفا ھوتے تھے، عيب جوئي بري بات ہے۔
جب بادشاہ کا دل حکومت سے بھر گيا تو وہ اپني چيک چکيں لے کر تاريک دنيا ھوگيا اور پہاڑوں کي طرف نکل گيا، لوگ کہتے ہيں اب زندہ ہے ۔
وللہ اعلم بالصواب

Wednesday, July 15, 2009

خاندان غلاماں








اس خاندان کا بانی مبانی ایک شخص غلام محمد نامی تھا اسی لئے یہ خاندان غلاماں کہلایا دوسری وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس خاندان کے عہد میں بعض طاقتوں کے نام خط غلامی لکھا گیا چونکہ اس خاندان کے بہت سے والیان سلطنت کی عمر انگریز کی غلامی میں گزری تھی اس لئے بھی اس کو خاندان غلاماںکا نام دیا گیا ۔
اس زمانے میں ذاتی اور انفرادی غلامی تو ختم ہو رہی تھی ہاں کسی ملک کا کسی دوسرے ملک کا غلام ہونا معیوب نہ سمجھا جاتا ہے آقا ملک اپنے غلام ملک کو ایڈ دیتا تھا اپنی فالتو پیداوار بھیجتا تھا تا کہ سمندروں میں نہ ڈبونی پڑے اور فالتو آدمی جن کا اس کے اپنے ملک میں کوئی مصرف نہ ہوتا تھا مشیر بنا کر ساتھ کر دیتا غلام ملک کی ذمہ داریاں کچھ زیادہ نہ ہوتی تھی بس حق نا حق میں آقا ملک کا ساتھ دینا ہوتا تھا علاوہ ازیں غلام ملک اپنے ہاں فولاد کا کارخانہ بھی نہ لگاتا تھا خارجہ پالیسی بھی پوچھ کر بناتا تھا بلکہ آقا ملک سے بنی بنائی منگاتا تھا

Sunday, June 21, 2009

کل چودھویں کی رات تھی




کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نہ کہا یہ چاند ہے، کچھ نہ کہا چہرا تیرا

ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردا تیرا

اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا

کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھرا تیرا

بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا

ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا

دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا

اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا

ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا

ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شہر ہوا کیا کیا تیرا

بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا

اِبنِ اِنشاؔ


Monday, June 15, 2009

سب مایا ہے






سب مایا ہے

سب مایا ہے سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہاہے فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے

اک نام تو باقی رہتا ہے گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے

معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے

جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہوں ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے آیا ہے
سب مایا ہے

وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الہڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بجھوایا ہے
سب مایا ہے

جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہر جائی ہے
اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کٹیا کے ماتھے پے لکھوایا ہے
سب مایا ہے

Wednesday, April 15, 2009

برکات حکومت غیرانگلشیہ






عزيزو بہت دن پہلے اس ملک ميں انگريزوں کي حکومت ہوتي تھي اور درسي کتابوں ميں ايک مضمون برکات حکومت انگليشہ کے عنوان سے شامل رہتا تھا، اب ہم آزاد ہيں، اس زمانے کے مصنف حکومت کي تعريف کيا کرتے تھے، کيونکہ کے اس کے سوا کوئي چارہ بھي نہيں تھا، ہم اپنے عہد کي آزادي اور قومي حکومتوں کي تعريف کريں گے، اس کي وجہ بھي ظاہر ہے۔
عزيزو انگريزوں نے کچھ اچھے کام بھي کئے ہيں، ليکن ان کے زمانے ميں خرابياں بہت تھيں، کوئي حکومت کے خلاف بولتا تھا يا لکھتا تھا تو اس کو جيل بھيج ديتے تھے، اب نہيں بھيجتے، رشوت ستاني عام تھي، آج کل نہيں ہے، دکاندار چيزيں مہنگي بيچتے اور ملاوٹ بھي کرتے تھے، آج کل کوئي مہنگي نہيں بيچتا، ملاوٹ بھي نہيں کرتا، انگريزوں کے زمانے ميں امير اور جاگيردار عيش کرتے تھے، غيربوں کو کوئي پوچھتا ہے کہ وہ تنگ آجاتے ہيں، خصوصا حق رائے دہندگي بالغاں کے بعد سے ۔
تعليم اورصنعت و حرفت کو ليجئے، ربع صدي کے مختصر عرصے ميں ہماري شرح خواندگي اٹھارافي صد ہوگئي، غير ملکي حکومت کے زمانے ميں ايسا ہوسکتا تھا؟
انگريز شروع شروع ميں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ ديتے تھے، اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنےلوگ ہيں، دستکاروں کے انگھوٹے نہيں کاٹتے ہاں کبھي کبھي پورے دستکار کو کاٹ ديتے ہيں، آزادي سے پہلےہندو بنئيے اور سرمايہ دار ہميں لوٹا کرتے تھے، ہماري خواہش تھي، کہ يہ سلسلہ ختم ہو اور ہميں مسلمان بنئے اور سيٹھ لوٹيں،الحمد اللہ کہ يہ آرزو پوري ہوئي، جب سے حکومت ہمارے ہاتھ ميں آئي ہے ہم نے خاص برآمدات دو ہيں، دفود اور زرمبادلہ، درآمدات ہم گھٹاتے جارہے ہيں، ايک زمانہ ميں تو خارجہ پاليس تک باہر سے درآمد کرتے تھے ، اب يہاں بننے لگي ہے۔