Showing posts with label songs by insha. Show all posts
Showing posts with label songs by insha. Show all posts

Saturday, November 20, 2010

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں



ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے، کچھ ان کا اشارا ہوتا ہے

کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں، دیکھا انہیں پلکوں پہ اکثر
یا شامِ غریباں کا جگنو، یا سورج کا تارا ہوتا ہے

ہم دل کو لئے ہر دیس پھرے، اس جنس کے گاہک مل نہ سکے
اے بنجاروں ہم لوگ چلے، ہم کو تو خسارا ہوتا ہے

دفتر سے اٹھے کیفے میں گئے، کچھ شعر کہے، کچھ کافی پی
پوچھو جو معاش کا انشاء جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے

ابنِ انشاء


اے منوالی، بدلی کالی، روپ کا رس برستی جا



اے منوالی، بدلی کالی، روپ کا رس برستی جا
دل والوں کی اُجڑی بستی، سونا دھام بساتی جا

دیوانوں کا روپ نہ دھاریں، یا دھاریں? بتلاتی جا
ماریں یا ہمیں اینٹ نہ ماریں، لوگوں سے فرماتی جا

اور بہت سے رشتے تیرے، اور بہت سے تیرے نام
آج تو ایک ہمارے رشتے، محبوبہ کہلاتی جا

پورے چاند کی رات وہ ساگر، جس ساگر کا اور نہ چھور
یا ہم آج ڈبو دیں تجھ کو، یا تو ہمیں بچاتی جا

ہم لوگوں کی آنکھیں پلکیں راہ میں ہیں، کچھ اور نہیں
شرماتی گھبراتی گوری، اتراتی اٹھلاتی جا

دل والوں کی دور پہنچ ہے، ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
ایک نظر میں بخشش دے کر، لاکھ ثواب کماتی جا

اور تو فیض نہیں کچھ تجھ سے، اے بےحاصل، اے بےمہر
انشاء جیسی نظمیں، غزلیں گیت کبت لکھواتی جا

ابنِ انشاء

اب نہ محمل نہ گردِ محمل ہے


اب نہ محمل نہ گردِ محمل ہے
اب نہ محمل نہ گردِ محمل ہے
اے جنوںِ دشت ہے کہ منزل ہے

اب تمہی راہ سے بھٹک جاؤ
دل کو سمجھانا سخت مشکل ہے

ناخُدا کو ڈبو دیا ہم نے
اب کسے آرزوئے ساحل ہے

ابنِ انشاء

دنیا بھر سے دور یہ نگری


دنیا بھر سے دور یہ نگری
دنیا بھر سے دور یہ نگری
نگری دنیا بھر سے نرالی
اندر ارمانوں کا میلا
باہر سے دیکھو تو خالی
ہم ہیں اس کٹیا کے جوگی
ہم ہیں اس نگری کے والی
ہم نے تو رکھا ہے زمانہ
تم آنا تو تنہا آنا

دل کی کٹیا دشت کنارے
بستی کا سا حال نہیں ہے
مکھیا،پیر،پروہت،پیادے
ان سب کا جنجال نہیں ہے
نہ بنیے،نہ سیٹھ نہ ٹھاکر
پینتھ نہیں ،چوپال نہیں
سونا،روپیہ۔ چوکی ،مسند
یہ بھی مال منال نہیں ہے
لیکن یہ جوگی دل والا
اے گوری کنگال نہیں ہے
چاہو جو چاہت کا خزانہ
تم آنا اور تنہا آنا
آہو مانگے بَن کا رمنہ
بھنورہ چاہے پھول کی ڈالی
سوکھے خیل کے کونپل مانگے
اک گھنگور بدریا کالی
دھوپ جلے کہیں سایہ چاہیں
اندھی راتیں دیپ دوالی
ہم کیا مانگیں ہم کیا چاہیں؟
ہونٹ سلے اور جھولی خالی
دل بھنورہ نہ پھول نہ کونپل
بگیا نہ بگیا کا مالی
دل آہو نہ دھوپ نہ سایہ
دل کی اپنی بات نرالی
دل تو کسی درشن کا بھوکا
دل تو کسی درشن کا سوالی
نام لیے بن پڑا پکارے
کسے پکارے دشت کنارے؟

یہ تو اک دنیا کو چاہیں
ان کو کس نے اپنا جانا
اور تو سب لوگوں کا ٹھکانہ
انشاء جی کا کون ٹھکانہ
اب بھٹکیں تو آپ ہی بھٹکیں
چھوڑا دنیا کو بھٹکانہ
گیت کتاب اور نظمیں غزلیں
یہ سب ان کا مال پرانا
جھوٹی باتیں سچی باتیں
بیتی باتیں کیا دہرانا
اب تو گوری نئے سرے سے
اندھیاروں میں دیپ جلانا
مجبوری؟ کیسی مجبوری
آنا ہو تو لاکھ بہانا

آنا اس کٹیا کے دوارے
دل کی کٹیا دشت کنارے

ابنِ انشاء

بستی میں دیوانے آئے



بستی میں دیوانے آئے
بستی میں دیوانے آئے
چھب اپنی دکھلانے آئے
دیکھ رے درشن کی لو بھی
کرکے لاکھ بہانے آئے
پیت کی ریت نبھانی مشکل
پیت کی ریت نبھانے آئے
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
سب اپنے بیگانے آئے
پیر، پروہت، مُلّا، مُکھیا
بستی کے سب سیانے آئے
طعنے، مہنے، اینٹیں، پاتھر
ساتھ لئے نذرانے آئے
سب تجھ کو سمجھانے والے
آج انہیں سمجھانے آئے
اب لوگوں سے کیسی چوری?
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
درشن کی برکھا برسا دے
ان پیاسوں کی پیاس بُجھا دے
اور کسی کے دوار نہ جاویں
یہ جو انشاء جی کہلا دیں
تجھ کو کھو کر دنیا کھوئے
ہم سے پوچھو کتنا روئے
جگ کے ہوں دھتکارے ساجن
تیرے تو ہیں پیارے ساجن
گوری روکے لاکھ زمانہ
ان کو آنکھوں میں بٹھلانا

بجھتی جوگ جگانے والے
اینٹیں پاتھر کھانے والے
اپنے نام کو رسوا کرکے
تیرا نام چھپانے والے
سب کچھ بوجھے، سب کچھ جانے ؟
انجانے بن جانے والے
تجھ سے جی کی بات کہیں کیا
اپنے سے شرمانے والے
کرکے لاکھ بہانے آئے
جوگی لیکھ جگانے آئے

دیکھ نہ ٹوٹے پیت کی ڈوری
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری

ابنِ انشاء

دروازہ کھلا رکھنا


دل درد کي شدت سے خون گشتہ و سي پارہ
دل درد کي شدت سے خون گشتہ و سي پارہ
اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشي و آوارہ
شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگي ہے کہ بنجارہ

دروازہ کھلا رکھنا

سينے سے گھٹا اٹھے، آنکھوں سے جھڑي بر سے
پھاگن کا نہيں بادل جو چار گھڑي بر سے
برکھا ہے یہ بھادوں کی، جو برسے تو بڑی برسے

دروازہ کھلا رکھنا

ہاں تھام محبت کي گر تھام سکے ڈوري
ساجن ہے ترا ساجن، اب تجھ سےتو کيا چوري
جس کي منادي ہے بستي ميں تري گوري

دروازہ کھلا رکھنا

ابنِ انشا