Showing posts with label sab maya hay. Show all posts
Showing posts with label sab maya hay. Show all posts

Saturday, November 20, 2010

اس آنگن کا چاند



شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں
چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند

انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے
ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند

ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ
لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟

درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟
آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند !

ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائے
یہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟

انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہے
جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند

ان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہا
ورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور سونا چاند

جگ کے چاروں کوٹ میں گھوما، سیلانی حیران ہوا
اس بستی کے اس کوچے کے اس آنگن میں ایسا چاند ؟

آنکھوں میں بھی، چتون میں بھی، چاندہی چاند جھلکتے ہیں
چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند

ایک یہ چاندنگر کا باسی، جس سے دور رہا سنجوگ
ورنہ اس دنیا میں سب نے چاہا چاند اور پایا چاند

امبر نے دھرتی پر پھینکی نور کی چھینٹ اداس اداس
آج کی شب تو آندھی شب تھی، آج کدھر سے نکلا چاند

انشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی رِیت یہی ہے
سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند

اپنا سینے کے مطلع پر جو بھی چمکا وہ چاند ہوا
جس نے مَن کے اندھیارے میں آن کیا اُجیارا چاند

چنچل مسکاتی مسکاتی گوری کا مُکھڑا مہتاب
پت جھڑ کے پیڑوں میں اٹکا، پیلا سا اِک پتہ چاند

دکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اس کے دم سے دیکھ لئے
ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبھرا چاند

روشنیوں کی پیلی کرنیں، پورب پچھم پھیل گئیں
تو نے کس شے کےدھوکے میں پتھر پہ دے ٹپکا چاند

ہم نے تو دونوں کو دیکھا، دونوں ہی بےدرد خطور
دھرتی والا، امبر والا، پہلا چاند اور دوجا چاند

چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے ؟
چاند کی خاطر زِد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند

ابنِ انشا

Monday, June 15, 2009

سب مایا ہے






سب مایا ہے

سب مایا ہے سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہاہے فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے

اک نام تو باقی رہتا ہے گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے

معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے

جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہوں ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے آیا ہے
سب مایا ہے

وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الہڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بجھوایا ہے
سب مایا ہے

جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہر جائی ہے
اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کٹیا کے ماتھے پے لکھوایا ہے
سب مایا ہے