Showing posts with label urdu nazam. Show all posts
Showing posts with label urdu nazam. Show all posts

Monday, February 14, 2011

دل عشق میں‌بے مایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو



دل عشق میں‌بے مایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو
دریا ہو تو ایسا ہو ، صحرا ہو تو ایسا ہو

ہم سے نہیں‌رشتہ بھی ، ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پاس وہ بیٹھا بھی ، دھوکہ ہو تو ایسا ہو

اک خال سویدا میں ، پہنائی دو عالم
پھیلا ہو تو ایسا ہو ، سمٹا ہو تو ایسا ہو

دریا بہ حباب اندر ، طوفاں بہ سحاب اندر
محشر بہ حجاب اندر ، ہونا ہو تو ایسا ہو

وہ بھی رہا بیگانہ ، ہم نے بھی نہ پہچانا
ہاں ، اے دل دیوانہ ، اپنا ہو تو ایسا ہو

ہم نے یہی مانگا تھا ، اس نے یہی بخشا ہے
بندہ ہو تو ایسا ہو، داتا ہو تو ایسا ہو

اس دور میں‌کیا کیا ہے ،رسوائی بھی ،لذّت بھی
کانٹا ہو تو ایسا ہو ، چبھتا ہو تو ایسا ہو

اے قیس جنوں پیشہ ، انشاء کو کبھی دیکھا
وحشی ہو تو ایسا ہو ،رسوا ہو تو ایسا ہو

ابن انشاء


Read more: http://www.qatarliving.com/node/1603230#ixzz1DvkcPRAM


Monday, January 24, 2011

ہم خوابوں کے بیوپاری تھےپر اس میں ہوا نقصان بڑا

ہم خوابوں کے بیوپاری تھےپر اس میں ہوا نقصان بڑا

کچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی کچھ غضب کا کال پڑا

ہم راکھ لئے ہیں جھولی میں اور سر پہ ہے ساہوکار کھڑا

جب دھرتی صحرا صحرا تھی ہم دریا دریا روئے تھے

جب ہاتھ کی ریکھائیں چُپ تھیں اور سُرسنگیت میں کھوئے تھے

تب ہم نے جیون کھیتی میں کچھ خواب انوکے بوئے تھے

کچھ خواب سجل مسکانوں کےکچھ بول بہت دیوانوں کے

کچھ نیر و وفا کی شمعوں کے کچھ پاگل پروانوں کے

کچھ لفظ جنہیں معنی نہ ملیں کچھ گیت شکستہ جانوں کے

پھر اپنی گھائل آنکھوں سے خوش ہوکے لہو چھڑکایا تھا

ماٹی میں ماس کی کھاد بھری اور نس نس کو زخمایا تھا

جب فصل کٹی تو کیا دیکھا،کچھ درد کے ٹوٹے گجرے تھے

کچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پرکچھ خاکستر سے گجرے تھے

اور دور اُفق کے ساگر میں کچھ ڈولتے ڈولتے بجرے تھے

اب پاوں کھڑاوں دھول بھری اور تن پہ جوگ کا چولا ہے

سب سنگی ساتھی بھید بھرے کوئی ماشہ ہے کوئی تولہ ہے

اب گھاٹ ہے نہ گھر دہلیز ہے نہ در اب پاس رہا کیا ہے بابا

بس اک تن کی گٹھڑی باقی ہے جا یہ بھی تو لے جا بابا

ہم بستی کو چھوڑے جاتے ہیں تو اپنا قرض چکا بابا

Saturday, January 22, 2011

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی



ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی

سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی ہو؟
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی؟

تم میری طرف دیکھ کے چپ ہو سی گئی تھیں
وہ ساعتِ خوش وقت نشاطِ گزراں کی

اک دن یہ سمجھتے تھے کہ پایانِ تمنا
اک رات ہے مہتاب کے ایامِ جواں کی

اب اور ہی اوقات ہے اے جانِ تمنا!
ہم نالہ کناں، بے گنَہاں، غم زدگاں کی

اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو!
کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟

برگشتہ ہوا ہم سے، یہ مہتاب تو پیارو!
بس بات سنی، راہ چلا، کاہکشاں کی

اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی

ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا
باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی

پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں
غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی

تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو!
تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی

اچھا ہمیں بنتے ہوئے، مٹتے ہوئے دیکھو
ہم موجِ گریزاں ہی سہی، آبِ رواں کی

انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن
اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی

مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی

اے دوستو! اے دوستو! اے درد نصیبو!
گلیوں میں، چلو سیر کریں، شہرِ بتاں کی

ہم جائیں کسی سَمت، کسی چوک میں ٹھہریں
کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی

انشاؔ کی غزل سن لو، پہ رنجور نہ ہونا
دیوانا ہے، دیوانے نے اک بات بیاں کی

(ابنِ انشا)







Saturday, November 20, 2010

اک بار کہو تم میری ہو


اک بار کہو تم میری ہو
ہم گھوم چکے بستی بَن میں
اک آس کی پھانس لئے مَن میں
کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو

اک بار کہو تم میری ہو

جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا روپ لُٹاتا ہو
جب سورج دھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو

اک بار کہو تم میری ہو

کیا جھگڑا سود خسارے کا
یہ کاج ہیں بنجارے کا
سب سونا روپا لے جائے
سب دنیا، دنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو

ابنِ انشاء

ہم لوگوں نے عشق ایجا کیا !



جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا !
کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا

کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن،رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
جہان حُسن ملا وہاں بیٹھ گئے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا، کبھی بیت کہے ، لکھی چاندنگر
کبھی کوہ سے جاسر پھوڑ مرے، کبھے قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا، بڑا مَن کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبتِ یار کہاں، اب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میر سا عالم ہے، ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

ابنِ انشاء

ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں



ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں کل اور نگر میں، صبح کہاں اور شام کہاں

ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ، ہم سے بھی لوگو پیار کرو
تم تو پشیمان ہو بھی سکو گے، ہم کو یہاں پہ دوام کہاں

سانجھ سمے کچھ تارے نکلے، پل بھر چمکے ڈوب گئے
انبر انبر ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہِ تمام کہاں

دل پہ جو بیتے سہ لیتے ہیں، اپنی زباں میں کہ لیتے ہیں
انشاء جی ہم لگ کہاں اور میر کا رنگِ کلام کہاں

اک بات کہیں گے انشاء جی تمھیں ریختہ کہتے دیر ہوئی
تم ایک جہاں کا علم پڑھے، کوئی میر سا شعر کہا تم نے؟

ابنِ انشاء

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں



ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے، کچھ ان کا اشارا ہوتا ہے

کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں، دیکھا انہیں پلکوں پہ اکثر
یا شامِ غریباں کا جگنو، یا سورج کا تارا ہوتا ہے

ہم دل کو لئے ہر دیس پھرے، اس جنس کے گاہک مل نہ سکے
اے بنجاروں ہم لوگ چلے، ہم کو تو خسارا ہوتا ہے

دفتر سے اٹھے کیفے میں گئے، کچھ شعر کہے، کچھ کافی پی
پوچھو جو معاش کا انشاء جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے

ابنِ انشاء


اے منوالی، بدلی کالی، روپ کا رس برستی جا



اے منوالی، بدلی کالی، روپ کا رس برستی جا
دل والوں کی اُجڑی بستی، سونا دھام بساتی جا

دیوانوں کا روپ نہ دھاریں، یا دھاریں? بتلاتی جا
ماریں یا ہمیں اینٹ نہ ماریں، لوگوں سے فرماتی جا

اور بہت سے رشتے تیرے، اور بہت سے تیرے نام
آج تو ایک ہمارے رشتے، محبوبہ کہلاتی جا

پورے چاند کی رات وہ ساگر، جس ساگر کا اور نہ چھور
یا ہم آج ڈبو دیں تجھ کو، یا تو ہمیں بچاتی جا

ہم لوگوں کی آنکھیں پلکیں راہ میں ہیں، کچھ اور نہیں
شرماتی گھبراتی گوری، اتراتی اٹھلاتی جا

دل والوں کی دور پہنچ ہے، ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
ایک نظر میں بخشش دے کر، لاکھ ثواب کماتی جا

اور تو فیض نہیں کچھ تجھ سے، اے بےحاصل، اے بےمہر
انشاء جیسی نظمیں، غزلیں گیت کبت لکھواتی جا

ابنِ انشاء

اب نہ محمل نہ گردِ محمل ہے


اب نہ محمل نہ گردِ محمل ہے
اب نہ محمل نہ گردِ محمل ہے
اے جنوںِ دشت ہے کہ منزل ہے

اب تمہی راہ سے بھٹک جاؤ
دل کو سمجھانا سخت مشکل ہے

ناخُدا کو ڈبو دیا ہم نے
اب کسے آرزوئے ساحل ہے

ابنِ انشاء

دنیا بھر سے دور یہ نگری


دنیا بھر سے دور یہ نگری
دنیا بھر سے دور یہ نگری
نگری دنیا بھر سے نرالی
اندر ارمانوں کا میلا
باہر سے دیکھو تو خالی
ہم ہیں اس کٹیا کے جوگی
ہم ہیں اس نگری کے والی
ہم نے تو رکھا ہے زمانہ
تم آنا تو تنہا آنا

دل کی کٹیا دشت کنارے
بستی کا سا حال نہیں ہے
مکھیا،پیر،پروہت،پیادے
ان سب کا جنجال نہیں ہے
نہ بنیے،نہ سیٹھ نہ ٹھاکر
پینتھ نہیں ،چوپال نہیں
سونا،روپیہ۔ چوکی ،مسند
یہ بھی مال منال نہیں ہے
لیکن یہ جوگی دل والا
اے گوری کنگال نہیں ہے
چاہو جو چاہت کا خزانہ
تم آنا اور تنہا آنا
آہو مانگے بَن کا رمنہ
بھنورہ چاہے پھول کی ڈالی
سوکھے خیل کے کونپل مانگے
اک گھنگور بدریا کالی
دھوپ جلے کہیں سایہ چاہیں
اندھی راتیں دیپ دوالی
ہم کیا مانگیں ہم کیا چاہیں؟
ہونٹ سلے اور جھولی خالی
دل بھنورہ نہ پھول نہ کونپل
بگیا نہ بگیا کا مالی
دل آہو نہ دھوپ نہ سایہ
دل کی اپنی بات نرالی
دل تو کسی درشن کا بھوکا
دل تو کسی درشن کا سوالی
نام لیے بن پڑا پکارے
کسے پکارے دشت کنارے؟

یہ تو اک دنیا کو چاہیں
ان کو کس نے اپنا جانا
اور تو سب لوگوں کا ٹھکانہ
انشاء جی کا کون ٹھکانہ
اب بھٹکیں تو آپ ہی بھٹکیں
چھوڑا دنیا کو بھٹکانہ
گیت کتاب اور نظمیں غزلیں
یہ سب ان کا مال پرانا
جھوٹی باتیں سچی باتیں
بیتی باتیں کیا دہرانا
اب تو گوری نئے سرے سے
اندھیاروں میں دیپ جلانا
مجبوری؟ کیسی مجبوری
آنا ہو تو لاکھ بہانا

آنا اس کٹیا کے دوارے
دل کی کٹیا دشت کنارے

ابنِ انشاء

بستی میں دیوانے آئے



بستی میں دیوانے آئے
بستی میں دیوانے آئے
چھب اپنی دکھلانے آئے
دیکھ رے درشن کی لو بھی
کرکے لاکھ بہانے آئے
پیت کی ریت نبھانی مشکل
پیت کی ریت نبھانے آئے
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
سب اپنے بیگانے آئے
پیر، پروہت، مُلّا، مُکھیا
بستی کے سب سیانے آئے
طعنے، مہنے، اینٹیں، پاتھر
ساتھ لئے نذرانے آئے
سب تجھ کو سمجھانے والے
آج انہیں سمجھانے آئے
اب لوگوں سے کیسی چوری?
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
درشن کی برکھا برسا دے
ان پیاسوں کی پیاس بُجھا دے
اور کسی کے دوار نہ جاویں
یہ جو انشاء جی کہلا دیں
تجھ کو کھو کر دنیا کھوئے
ہم سے پوچھو کتنا روئے
جگ کے ہوں دھتکارے ساجن
تیرے تو ہیں پیارے ساجن
گوری روکے لاکھ زمانہ
ان کو آنکھوں میں بٹھلانا

بجھتی جوگ جگانے والے
اینٹیں پاتھر کھانے والے
اپنے نام کو رسوا کرکے
تیرا نام چھپانے والے
سب کچھ بوجھے، سب کچھ جانے ؟
انجانے بن جانے والے
تجھ سے جی کی بات کہیں کیا
اپنے سے شرمانے والے
کرکے لاکھ بہانے آئے
جوگی لیکھ جگانے آئے

دیکھ نہ ٹوٹے پیت کی ڈوری
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری

ابنِ انشاء

لب پر کسي کا بھي ہو، دل ميں تيرا نقشا ہے



لب پر کسي کا بھي ہو، دل ميں تيرا نقشا ہے
اے تصوير بنانے والي، جب سے تجھ کو ديکھا ہے

بے ترے کيا وحشت ہم کو، تجھ بن کيسا صبر و سکوں
تو ہي اپنا شہر ہے جاني تو ہي اپنا صحرا ہے

نيلے پربت، اودي دھرتي، چاروں کوٹ ميں تو ہي تو
تجھ سے اپنے جي خلوت، تجھ سے من کا ميلا ہے

آج تو ہم بکنے کو آئے، آج ہمارے دام لگا
يوسف تو بازار وفا ميں ايک ٹکے کو بکتا ہے

لے جاني اب اپنے من کے پيراہن کي گرہيں کھول
لے جاني اب آدھي شب ہے چار طرف سناٹا ہے

طوفانوں کي بات نہيں ہے، طوفاں آتے جاتے ہيں
تو اک نرم ہواکا جھونکا، دل کے باغ ميں ٹھہرا ہے

ياتو آج ہميں اپنالے يا تو آج ہمارا بن
ديکھ کہ وقت گزرتا جائے، کون ابد تک جيتا ہے

فردا محض فسوں کا پردا، ہم تو آج کے بندے ہيں
ہجر و وصل وفا اور دھوکا سب کچھ آج پہ رکھتا ہے

ابنِ انشا

دروازہ کھلا رکھنا


دل درد کي شدت سے خون گشتہ و سي پارہ
دل درد کي شدت سے خون گشتہ و سي پارہ
اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشي و آوارہ
شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگي ہے کہ بنجارہ

دروازہ کھلا رکھنا

سينے سے گھٹا اٹھے، آنکھوں سے جھڑي بر سے
پھاگن کا نہيں بادل جو چار گھڑي بر سے
برکھا ہے یہ بھادوں کی، جو برسے تو بڑی برسے

دروازہ کھلا رکھنا

ہاں تھام محبت کي گر تھام سکے ڈوري
ساجن ہے ترا ساجن، اب تجھ سےتو کيا چوري
جس کي منادي ہے بستي ميں تري گوري

دروازہ کھلا رکھنا

ابنِ انشا