Showing posts with label History. Show all posts
Showing posts with label History. Show all posts

Saturday, November 20, 2010

بستی میں دیوانے آئے



بستی میں دیوانے آئے
بستی میں دیوانے آئے
چھب اپنی دکھلانے آئے
دیکھ رے درشن کی لو بھی
کرکے لاکھ بہانے آئے
پیت کی ریت نبھانی مشکل
پیت کی ریت نبھانے آئے
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
سب اپنے بیگانے آئے
پیر، پروہت، مُلّا، مُکھیا
بستی کے سب سیانے آئے
طعنے، مہنے، اینٹیں، پاتھر
ساتھ لئے نذرانے آئے
سب تجھ کو سمجھانے والے
آج انہیں سمجھانے آئے
اب لوگوں سے کیسی چوری?
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
درشن کی برکھا برسا دے
ان پیاسوں کی پیاس بُجھا دے
اور کسی کے دوار نہ جاویں
یہ جو انشاء جی کہلا دیں
تجھ کو کھو کر دنیا کھوئے
ہم سے پوچھو کتنا روئے
جگ کے ہوں دھتکارے ساجن
تیرے تو ہیں پیارے ساجن
گوری روکے لاکھ زمانہ
ان کو آنکھوں میں بٹھلانا

بجھتی جوگ جگانے والے
اینٹیں پاتھر کھانے والے
اپنے نام کو رسوا کرکے
تیرا نام چھپانے والے
سب کچھ بوجھے، سب کچھ جانے ؟
انجانے بن جانے والے
تجھ سے جی کی بات کہیں کیا
اپنے سے شرمانے والے
کرکے لاکھ بہانے آئے
جوگی لیکھ جگانے آئے

دیکھ نہ ٹوٹے پیت کی ڈوری
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری

ابنِ انشاء

خوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور میں چھوڑا ہات


خوب ہمارا ساتھ نبھایا، بیچ بھنور میں چھوڑا ہات
ہم کو ڈبو کر خود ساحل پر جا نکلے ہو، اچھی بات

شام سے لے کر پو پھٹنے تک کتنی رُتیں بدلتی ہیں
آس کی کلیاں یاس کے پت جھڑ صبح کے اشکوں کی برسات

اپنا کام تو سمجھانا ہے، اے دل رشتے توڑ کے جوڑ
ہجر کی راتیں لاکھوں کروڑوں، وصل کے لمحے پانچ کے سات

ہم سے ہمارا عشق نہ چھینو، حسن کی ہم کو بھیک نہ دو
تم لوگوں کے دور ٹھکانے، ہم لوگوں کی کیا اوقات

روگ تمہارا اور ہے انشاء، بیدوں سے کیوں چہل کرو
درد کے سودے کرنے والے، درد سے پا سکتے ہیں نجات

ابنِ انشاء

Friday, October 29, 2010

تاریخ – ابن انشاء

شاہ جہاں جہانگیر کا بیٹا اور اکبر کا پوتا تھا کسی عمارتی ٹھیکیدار کا نور نظر نہ تھا نہ کسی پی ڈبلیو ڈی والے کا مورث اعلی تھا جیسا کہ لوگ اسے اتنی ساری عمارتیں بنانے کی وجہ سے سمجھ لیتے ہیں ۔


تاج محل اس کی بنائی ہوئی عمارتوں میں سب سے پہلے زیادہ مشہور ہے اس کی تعمیر میں بھی اتنے ہی برس لگے جتنے قائد اعظم محمد علی جناح کے مقبرے کو لگے تھے، اگر کوئی فرق ان دونوں مقبروں کی خوبصورتی اور تعمیر میں ہے تو اس کی وجہ ظاہر ہے شاہجہاں کے زمانے تک تعمیر اور نقشہ سازی میں اتنی ترقیاں نہ ہوئی تھی پتھر وغیرہ ڈھونے گھسنے چمکانے وغیرہ کے طریقے بھی پرانے اور دیر طلب تھے مشینی گاڑیاں اور بجلی کی سریع الرفتار مشینیں بھی ایجاد نہ ہوئی تھیں۔


ایک بات یہ بھی ہے کہ قائد اعظم کروڑوں آدمیوں کے محبوب تھے جبکہ ممتاز محل صرف ایک شخص کی محبوبہ بایں ہمہ اس زمانے کے اعتبار سے ہم تاج محل کو بہت اچھی عمارت کہہ سکتے ہیں ۔


شاہ جہاں بہت دور کی نظر رکھتا تھا تاج محل نہ ہوتا تو آج بھارت کی ٹورسٹ انڈسٹری کو اتنی ترقی نہ ہوتی، اتنا زرمبادلہ نہ حاصل ہوتا اس کے دیگر نتائج بھی دور رس ہیں تاج محل نہ ہوتا تو تاج محل بیٹری بھی نہ ہوتی تاج محل چپل بھی نہ ہوتی تاج محل مکھن نہ ہوتا جو صحت بخش اجزا کا مرکب ہے اور جسے تیاری کے دوران میں ہاتھوں سے نہیں چھوا جاتا، حتٰی کہ کپڑے دھونے کی خاطر تاج محل صابن بھی نہ ہوتا یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ تاج محل نہ ہوتا تو لوگ کیلینڈروں پر تصویریں کس چیز کی چھاپتے ۔


شاہجہاں نے کئی مسجدیں بھی بنائیں موتی مسجد اور دلی کی جامع مسجد وغیرہ لال قلعہ بھی بنایا۔ بہادر شاہ ظفر اسی میں مشاعرہ وغیرہ کرایا کرتے تھے تخت طاؤس بھی شاہجہاں ہی نے بنایا تھا اس میں اپنی طرف سے ہیرے جواہر وغیرہ جڑے تھے لیکن اس کے جانشینوں کو پسند نہیں آیا محمد شاہ نے اسے اٹھا کر نادر شاہ کو دے دیا وہ ایران لے گیا اور اس کا کھوپرا کھا لیا ۔


شاہجہاں کا زمانہ امن کا زمانہ تھا پھر بھی اس نے چند فتوحات کر ہی ڈالیں تاریخوں والے لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں چوری چکاری بھی نہیں ہوتی تھی رشوت خوری بھی نہ تھی خدا جانے اس زمانے کے اہلکار کیا کھاتے ہوں گے ۔


جہانگیر کا مقبرہ بھی شاہجہاں نے بنایا تھا یہ قیاس کرنا غلط ہے کہ شیر افگن نے بنوایا ہو گا ۔


اردو کی آخری کتاب - ابن انشاء

Saturday, September 25, 2010

بادشاہ



ایک بار مینڈکوں نے خدا سے دُعا کی کہ یا پروردگار ہمارے لئے کوئی بادشاہ بیھج۔ باقی سب مخلوقات کے بادشاہ ہیں۔ ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔ خداوند نے اُن کی سادہ لوحی پر نظر رتے ہوئے لکڑی کا ایک کندہ جوہڑ میں پھینکا۔ بڑے زوروں کے چھینٹے اُڑے۔ پہلے تو سب ڈر گئے۔ تھوڑی دیر بعد یہ دیکھ کر کہ وہ لمبا لمبا پڑا ہے ڈرتے ڈرتے قریب آئے پھر اس پر چڑھ گئے اور ٹاپنے لگے۔ چند دن بعد دوبارہ خداوند کو عرضی دی کہ یہ بادشاہ ہمیں پسند نہیں آیا۔ کوئی اور بھیج جو ہمارے شایانِ شان ہو۔ خداوند نے ناراض ہو کر ایک سمندری سانپ بھیج دیا۔ وہ آتے ہی بہتوں کو چٹ کر گیا۔ باقی کونوں کُھدروں میں جا چھپے۔