ایک پیاسے کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ ہرگز جان سے نہ جاتا۔
Friday, November 12, 2010
پیاسا کوا – ابن انشا کے مضامین
ایک پیاسے کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ ہرگز جان سے نہ جاتا۔
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
کبوتر -ابن انشا کے مضامین
کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بےبی نورجہان تھیں ۔کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔ کبوتر کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
چڑيا, چڑے کی کہانی – ابن انشاء
ايک تھي چڑيا، ايک تھا چڑا، چڑيا لائي دال کا دانا، چڑا لايا چاول کا دانا، اس سے کچھڑي پکائي، دونوں نے پيٹ بھر کر کھائي، آپس ميں اتفاق ہو تو ايک ايک دانے کي کچھڑي بھي بہت ہوتي ہے۔
چڑا بيٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے دل ميں وسوسہ آيا کہ چاول کا دانا بڑا ہوتا ہے، دال کا دانا چھوٹا ہوتا ہے۔ پس دوسرے روز کچھڑي پکي تو چڑے نے کہا اس میں چھپن حصے مجھے دے، جواليس حصے تو لے، اے باگھوان پسند کر يا نا پسند کر ۔ حقائق سے آنکھ مت بند کر ، چڑے نے اپني چونچ ميں سے چند نکات بھي نکالے، اور بي بي نے آگے ڈالے۔ بي بي حيران ہوئي بلکہ رو رو کر ہلکان ہوئي کہ اس کے ساتھ تو ميرا جنم کا ساتھ تھا ليکن کيا کر سکتي تھي۔
دوسرے دن پھر چڑيا دال کا دانا لائي اور چڑا چاول کا دانا لايا۔ دونوں نے الگ الگ ہنڈيا چڑھائي، کچھڑي پکائي، کيا ديکھتے ہیں کہ دو ہي دانے ہيں، چڑے نے چاول کا دانا کھايا، چڑيا نے دال کا دانا اٹھايا ۔ چڑے کو خالي چاول سے پيچش ہوگئي چڑيا کو خالي دال سے قبض ہو گئي۔ دونوں ايک حکيم کے پاس گئے جو ايک بلا تھا، اس نے دونوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھيرا اور پھيرتا ہي چلا گيا۔
يہ کہاني بہت پرانے زمانے کي ہے۔ آج کل تو چاول ايکسپورٹ ہو جاتا ہے اور دال مہنگي ہے۔ اتني کہ وہ لڑکياں جو مولوي اسماعيل ميرٹھي کے زمانے ميں دال بگھارا کرتي تھيں۔ آج کل فقط شيخي بگھارتي ہيں۔
تحریر : ابن انشاء
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
انارکلی
انارکلی ايک کنيز تھي جس کي وجہ سے شہزادہ سليم کا اخلاق خراب ہونے کا انديشہ تھا،اکبر نے اسے ديوار ميں چنوا ديا، ايک مصلحت اس ميں يہ تھي کہ سيد امتياز علي تاج اپنا معرکہ آرا ڈرامہ لکھ سکيں اور اردو ادب کے ذخيرے ميں ايک قيمتي اضافہ ہو سکے، درباري شاعري نظيري نيشا پوري نے ايک بار کہا کہ ميں نے لاکھ روپے کا ڈھير بھي نہيں ديکھا، بادشاہ نے ايک لاکھ خزانے سے نکلوا کر ڈھير لگا ديا، جب نظير اچھي طرح ديکہ چکا تو روپے واپس خزانے ميں بھجوا دئيے، نظيري ديکھتے کا ديکھتا رہ گيا، اصل ميں نظيري يہ حرکت خانخاناں کے ساتھ پہلے بھي کر چکا تھا، خانخاناں نے شاعر کي نيت کو بھانپ کر کہہ ديا تھا کہ اچھا اب يہ ڈھير تم اپنے گھر لے جائو، ليکن اکبر ايسا کچا آدمي نہ تھا۔
تحریر : ابن انشاء
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
جغرافیہ
ان پہاڑوں کو ديکھوں ،بعضوں کي چوٹياں آسمان سے باتيں کرتي ہيں۔ کيا باتيں کرتي ہيں؟ يہ کسي نے نہيں سنا۔ پہاڑوں کے اندر کيا ہوتا ہے؟ معلوم نہيں ۔ بعض اوقات پہاڑ کو کھودو تو اندر سے چوہا نکلتا ہے۔ بعض اوقات چوہا بھي نہيں نکلتا ۔ جس پہاڑ ميں سے چوہا نکلے اسے غنيمت جاننا چاہئيے۔
جو لوگ پہاڑوں پر رہتے ہيں ان کو گرم کپڑے تو ضرور بنوائے پڑتے ہيں ليکن ويسے کئي فائدے بھي ہيں ۔پہاڑوں پر برف جمي ہے جو ان لوگوں کو مفت مل جاتي ہے۔جتنا جي چاہے پاني ميں ڈال کر پيئيں ۔ برف ميں رہنے والوں کو ريفريجريٹر بھي نہيں خريدنے پڑتے پيسے بچتے ہيں۔
پہاڑ پتھروں کےبنے ہوتے ہيں۔ پتھر بہت سخت ہوتے ہيں ۔جس طرح محبوبوں کے دل سخت ہوتے ہيں ۔فرق يہ ہے کہ کبھي کبھي پتھر موم بھي ہو جاتے ہيں۔جو پہاڑ بہت بلندي دکھاتے ہيں ان کو کاٹتے ہيں اور کاٹ کر ان کے پتھر سڑکوں پر بچھاتے ہيں لوگ انہيں جوتوں سے پامال کرتے گزرتے ہيں ۔ جو پتھر زيادہ سختي دکھائيں وہ چکي ميں پستے ہيں ۔ سرمہ بن جاتے ہيں ۔ سارا پتھر پن بھول جاتے ہيں ۔
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی – ابن انشاء
ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں ا پنی جا ں کے خزانے سے
ہا ں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ا دھر کا آیا
کیوںسب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے
ہا ں ا ور خرا ج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام ہے کیا
کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
کیوں ا س مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہا ں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ ا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہا ں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
ا ور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ا ن سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آ خر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو ا س سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہا ں تم سے ہمارا رشتہ کیا ہے
کیا سود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی ا ور خرا ج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہا ں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہا ں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ اکھیاں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ ا ور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو ا پنے جی میں ا تار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
Wednesday, November 10, 2010
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں ، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جُهوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بِپتا ، جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابهی اور ہو اتنی، آدهی ہم نے چهپائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈهونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مئے خانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جُهوٹا، جُهوٹی پِیت ہماری ہو
فرض کرو اس پِیت کے روگ میں سانس بهی ہم پر بهاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈهونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
دیکھ میری جاں، کہہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے ہُو
بستی بستی صحرا صحرا، لاکهوں کریں دوانے ہو
جوگی بهی جو نگر نگر میں مارے مارے پهرتے ہیں
کاسہ لئے بهبوت رمائے سب کے دوارے پهرتے ہیں
شاعر بهی جو میٹهی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ان میں سچے موتی بهی ہیں، ان میں کنکر پتهر بهی
ان میں اتهلے پانی بهی ہیں، ان میں گہرے ساگر بهی
گوری دیکھ کے آگے بڑهنا، سب کا جهوٹا سچا ، ہو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گهڑا تها جس کا کچہ، ہو
ابنِ انشاء
I don't know why. But This is the only thing that I don't like in all the things that I have read from the Urdu literature and poetry added by Ibn-e-Insha.
Labels:
chand nagar,
farz karo,
ghazal,
Ibn-e-Insha,
Ibne-Insha,
Pakistani Poet,
Pakistani Writer,
Urdu,
urdu ki akhri kitab,
ابنِ انشاء
Subscribe to:
Posts (Atom)